بنگلورو،16؍دسمبر(ایس او نیوز) پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی قحط وخشک سالی نے ریاستی خزانہ کواپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔ملک گیرلاک ڈاؤن کی وجہ سے ریاستی خزانہ نتھرے ہوئے شہدکے چھتہ کی مانند ہوگیاہے۔آمدنی کے وسائل یکجاکرنے میں سست روی،گوڈس اینڈسرویس ٹیکس (جی ایس ٹی)معاوضہ رقم کی فراہمی میں کٹوتی،مرکزی حکومت کی ٹیکس رقوم میں ریاستی حصہ داری میں کمی ان سب وجوہات سے ریاستی خزانہ خالی خالی ہوگیاہے۔اس کے نتیجہ میں فلاح وبہبودی کے مختلف اسکیموں کونافذکرنے والا محکمہ نہایت بری طرح متاثرہوگیاہے۔اس مرتبہ ریاستی خزانہ مالیاتی قحط سالی کی زدمیں بری طرح آگیاہے۔انتہائی کم معاوضہ رقوم جاری کئے جانے کے ذریعہ فلاح وبہبودی کے پروگرم نافذکرنے محکموں کواسکیموں کونافذکرنے سے روک کررکھ دیاگیاہے۔
عوامی فلاح وبہبودی کی اسکیمیں جاری کرنے والے محکموں کوگزشتہ سال ماہ اکتوبرتک 16,207.51 کروڑروپے جاری کئے گئے تھے۔جبکہ امسال مذکورہ محکموں کواب تک صرف 7,091.06 کروڑروپے جاری کئے گئے ہیں۔اس صورتحال پرنظردوڑانے سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ ریاستی خزانہ مالیاتی طورپر تاریخ کے بدترین قحط سالی سے دوچارہے۔اقلیتی طبقات،پسماندہ،درج فہرست ذات ودرج فہرست قبائل کے طلبہ کی تعلیم کے لیے فراہم کی جارہی اسکالرشپ وتعلیمی رقوم میں بڑے پیمانہ پرکٹوتی کی گئی ہے۔
10نومبرکومحکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جاری حکمنامہ کے مطابق پی ایچ ڈی کررہے اقلیتی طبقات کے طلبہ کے لیے صرف دوسا ل تک ماہانہ25 ہزارروپے اورہرسال میں ایک بار 10 ہزار روپے اخراجات کی رقم بطور فیلوشپ دی جانی ہے۔اس کی بجائے پی ایچ ڈی کررہے اقلیتی طلبہ کی فیلوشپ رقم میں ایک لاکھ روپے کٹوتی کردی گئی ہے۔پہلے پی ایچ ڈی کرنے والوں کوماہانہ 25ہزارروپے فیلوشپ دی جاتی تھی مگراب کٹوتی کے بعدماہانہ 8250روپے ماہانہ فیلوشپ دینے کا حکمنامہ جاری کیاگیاہے۔ مالیاتی سال برائے 2019-20ء میں درج فہرست طبقات کے طلبہ کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ رقوم کے لیے بجٹ میں 7,125کروڑروپے مانگ تھی مگرصرف 2,926کروڑروپے جاری کئے گئے ہیں۔ اس سے طلب رقم میں سے 4,198.18 کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پسماندہ طبقات کے پوسٹ میٹرک طلبہ کے اسکالرشپ کے لیے 2,500کروڑروپے کی مانگ کی گئی تھی مگراس میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔2500 کروڑروپے کی بجائے صرف 1,360 کروڑروپے جاری کئے گئے،جبکہ 1,140 کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ یہ صرف تعلیم کے حوالے سے کیاگیاتجزیہ ہے۔ا س کے علاوہ بھی بہت سارے محکموں میں طلب شدہ بجٹ میں بڑے پیمانے پرکٹوتی کی گئی ہے۔ کس محکمہ کی بجٹ رقم میں کتنی کمی کی گئی ہے؟
اس کی تفصیل یہاں دی جارہی ہے۔ہاؤزنگ محکمہ میں طلب شدہ بجٹ میں 470کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔محکمہ کوآپریٹیو کے طلب شدہ بجٹ میں 3,902.66کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ محکمہ سماجی بہبودی کے طلب شدہ بجٹ میں 248.58کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ محکمہ برائے بہبودی درج فہرست ذات وقبائل کے طلب شدہ بجٹ میں 80.47 کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ محکمہ پسماندہ طبقات کے طلب شدہ بجٹ میں 381.21کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔محکمہ اقلیتی بہبودکے طلب شدہ بجٹ میں 346.64کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ قدرتی آفات انصرام محکمہ کے طلب شدہ بجٹ میں سے 2,423.22 کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ اورمحکمہ بہبودی خواتین واطفال کے طلب شدہ بجٹ میں 244.61کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔